ملتان(جیو نیٹ) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ (ن) لیگ ختم اور نوازشریف ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر ہوگئے اب مسلم لیگ (ش) اور تحریک انصاف کے خلاف الیکشن لڑنا ہے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف واحد ہیں جو تین بار پاکستان کے وزیراعظم بنے لیکن ان کے دور میں انہوں نے میٹرو کے علاوہ کیا کیا ہے؟ ہم گنوا نہیں سکتے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیا کیا کام کیے، انہوں نے غریبوں کو ان کے حقوق دلوائے اور اسٹیٹس کو کو ہلاکر رکھ دیا جب کہ بےنظیر بھٹو نےبھی تاریخ بنائی۔
۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم نے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے الگ صوبے کی بات کی، مخالفین مانتے ہیں جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہم (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کی طرح ایک شہر کو فوکس نہیں کرتے، لوگ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پی پی نے کچھ نہیں کیا، ہم نے شوبازی نہیں کی، میڈیا ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے ، ہماری کامیابی نہیں دکھاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ ختم اور نوازشریف بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے، اب مسلم لیگ (ش) اور پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن لڑنا ہے، ان کے امیداور الگ ہوں گے لیکن نظریہ اور منشور ایک ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے معاملے پر پیپلزپارٹی اور دیگر جماعیں کافی دیر سے بات کررہے ہیں، چیف جسٹس کو پہلےنوٹس لینا چاہیے تھا، اب ہم امید رکھتے ہیں کہ شہیدوں کو انصاف ملے گا۔
احتساب سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے نظریہ رہا ہے کہ ہمارا احتساب کا نظام کمزور ہے اس میں تبدیلی لانا پڑےگی، ہمارے دور میں جو کرنے کی کوشش کی اس وقت مخالفت ہوئی، ہم نے اپوزیشن میں ترمیم لانے کی کوشش کی اس میں بھی مخالفت ہوئی، ہم ایسا قانون چاہتے ہیں جس میں (ن) لیگ کے لیے وی آئی پی احتساب نہ ہو بلکہ سب کے لیے ایک جیسا احتساب ہو، ہم سب کا احتساب چاہتےہیں۔
لوڈشیڈنگ سےمتعلق سوال پر چیئرمین پی پی نے کہا کہ یہ لوگ پانچ سال سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن لوڈشیڈنگ کہاں ختم ہوئی؟ اگر تخت رائے ونڈمیں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورےملک میں ختم ہوگئی، ملک میں بجلی نہیں آتی، اوور بلنگ ہوتی ہے، لوگ بجلی کے بلوں کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہیں، حکومت نے صرف ایل این جی کے لیے سوچا، ٹیکسٹائل، مینوفیکچر اور زراعت کے شعبے کو چن چن کر تباہ کیا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں