جمعرات، 1 فروری، 2018

توہین عدالت پر نہاد ہاشمی کو ایک ماہ جیل،50 ہزار جرمانہ،پانچ سال کیلئے نااہل،طلال چودھری کو بھی نوٹس

اسلام آباد(حرمت قلم نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کوتوہین عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔انہیں پانچ برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ہے سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا تھا جس میں انہیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو 
دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا تھا۔
توہین عدالت پر نہاد ہاشمی کو ایک ماہ جیل،50 ہزار جرمانہ،پانچ سال کیلئے نااہل،طلال چودھری کو بھی نوٹس
نجی ٹی وی کے مطابق نہال ہاشمی کو اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب انہیں اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید 15 روز قید کاٹنا پڑے گی۔نہال ہاشمی وہ دوسرے رکن پارلیمان ہیں جنہیں توہین عدالت کے کیس میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل سنہ 2012 میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی توہین ِ عدالت کا مرتکب پایا گیا تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے دو ججوں نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ جمعرات کو سنایا جبکہ بنچ میں شامل ایک جج نے کوئی رائے نہیں دی۔نہال ہاشمی اس فیصلے کے خلاف لارجر بنچ کے سامنے اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی صورت میں وہ جج صاحبان اس بنچ کا حصہ نہیں ہوں گے جنہوں نے مجرم نہال ہاشمی کو یہ سزا سنائی ہے۔ اس کیس کے دوران نہال ہاشمی نے عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگی تھی تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔وہ اس وقت مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے جب سندھ اور بالخصوص کراچی میں ان کی جماعت کے نام لیوا بہت کم تھے اور جو تھے وہ یا تو جیل میں تھے یا جیل جانے سے بچنے کے لیے چھپتے پھرتے تھے۔ایسے وقت میں نہال ہاشمی، جو کہ کراچی میں ذیلی عدالتوں میں وکالت کرتے تھے، طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں نواز شریف کی عدالت حاضری کے وقت ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ نہال ہاشمی نواز شریف کے قریب تو بہت تھے لیکن کبھی بھی ان کے سنجیدہ مشاورتی حلقے میں شامل نہیں رہے۔ وجہ اس کی، ان کے مزاج کا سیلانی پن بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی میٹنگز میں بھی بعض اوقات ایسی بات کر جاتے جس پر ان کے علاوہ شرکا کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑتا۔یہی جذباتی پن بلآخر ان کے جیل جانے کا باعث بنا ہے۔ گذشتہ سال جب مئی میں انھوں نے پاناما کیس کے دوران اس کیس کی تفتیش کرنے والے جے آئی ٹی اور عدلیہ کے ارکان کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز تقریر کی، تو مسلم لیگ ن نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سینیٹ سے استعفیٰ طلب کیا۔ انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور نواز شریف سے ملاقات کا وقت مانگا جو انھیں نہیں ملا۔کہا جاتا ہے کہ اس کٹھن وقت میں انھیں مسلم لیگ کی صرف ایک خاتون شخصیت کی حمایت حاصل رہ گئی تھی جو اس وقت پارٹی میں دوسری اہم ترین فرد سمجھی جاتی ہیں۔واضح رہے کہ نہال ہاشمی کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تھا۔ حکمران جماعت نے سینیٹ میں قائدِ ایوان راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کی رپورٹ میں نہال ہاشمی کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن نے اپنی انضباطی کمیٹی کی سفارش پر متنازع تقریر کے بعد نہال ہاشمی کو جماعت سے نکال دیا تھا۔اگرچہ نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے تھا تاہم انھیں سینیٹ میں 2015 میں سیٹ پنجاب سے ملی تھی۔مذکورہ ویڈیو میں نہال ہاشمی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ حساب لینے والے آج حاضر سروس ہیں، کل ریٹائر ہو جائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنا دیں گے۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے اسے نہال ہاشمی کی ذاتی رائے قرار دیا گیا تھا اور نواز شریف نے نہال ہاشمی سے سینیٹرشپ سے مستعفی ہونے کو کہا تھا اور ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی تھی۔ابتدائی طور پر نہال ہاشمی نے اپنا استعفیٰ سینیٹ میں جمع کروا دیا تھا تاہم پھر 31 مئی کو انھوں نے چیئرمین رضا ربانی سے استعفے کی واپسی کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمسن کا کہنا ہے کہ انھیں اس فیصلے کی مصدقہ کاپی موصول نہیں ہوئی اور ایسا ہوتے وہ نہال ہاشمی کی رکینیت منسوخ کر دیں گے۔ واضح رہے کہ سینیٹ کے انتخابات آئندہ ماہ 
ہونے ہیں اور بہت امکان ہے کہ اس سیٹ پر الیکشن بھی آئندہ ماہ ہی کروایا جائے ۔
توہین عدالت پر نہاد ہاشمی کو ایک ماہ جیل،50 ہزار جرمانہ،پانچ سال کیلئے نااہل،طلال چودھری کو بھی نوٹس
علاوہ ازیں جڑانوالہ سے ایم این اے طلال چودھری کو بھی توہین عدالت کیس میں 
طلب کر لیا گیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیر مملکت طلال چودھری کو عدلیہ کیخلاف تقریر کرنے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس بھجوادیا۔عدالت وزیر مملکت برائے داخلہ کے توہین عدالت کے معاملے پر 6 فروی کو سماعت کرے گی جس میں طلال چوہدری کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ طلال چوہدری نے گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کے جڑانوالہ میں جلسے کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ایک وقت تھا جب کعبہ بتوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا، آج ہماری عدالت جو ایک اعلیٰ ترین ریاستی ادارہ ہے میں پی سی او ججز کی بھرمار ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2017 میں نواز شریف نے بھی انہیں نا اہل کرنے والے اور بد دیانت قرار دینے والے 'پی سی او ججز پر متنازع بیان دیا تھا۔ایوب اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 5 لوگوں نے مل کر 3 دفعہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو نکال دیا۔پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے بانی عبدالصمد خان اچکزئی کی 44 ویں برسی کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے آمروں کے دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا انہوں نے مجھے بد دیانت قرار دیا ہے۔

سندھ کے وزیر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ کی لاشیں برآمد،کنپٹی، ماتھے پر گولیاں لگیں،4 ملازمین سمیت 5 گرفتار


کراچی(حرمت قلم نیوز) پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ کے صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی نعشیں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی ہیں۔ میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ فریحہ رزاق پراسرار طور پر فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ پولیس نے خودکشی اور قتل کے امکانات کے بارے میں تفتیش شروع کردی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت صوبائی وزراءاور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی بڑی تعداد میر ہزار خان بجارانی کی رہائش گاہ پہنچ گئی۔ ہزار خان بجارانی کی موت پر ان کے آبائی قصبے کرم پور میں کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا۔
سندھ کے وزیر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ کی لاشیں برآمد،کنپٹی، ماتھے پر گولیاں لگیں،4 ملازمین سمیت 5 گرفتار
 اطلاعات کے مطابق میرہزار خان بجارانی کنپٹی اور ان کی اہلیہ فریحہ رزاق کی موت ماتھے پرگولی لگنے سے ہوئی۔ دونوں جب صبح دیر تک کمرے سے باہر نہیں آئے تو دروازہ توڑا گیا تو وہ مردہ حالت میں پائے گئے۔ پولس کا کہنا ہے کہ واقعہ خودکشی ہے یا دونوں میاں بیوی کوقتل کیا گیا ہے اس بارے میں تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ میر ہزار خان بجارانی کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ فریحہ رزاق بھی سیاست سے وابستہ تھیں اور سابق رکن سندھ اسمبلی بھی رہ چکی تھیں۔ اس بات کے باوجود کہ پولیس خودکشی کے امکان پر بھی تفتیش کررہی ہے۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراءاور اہم رہنما اس حوالے سے مطمئن نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی ایک سنجیدہ اور بردبار انسان تھے ان کی خودکشی کی بات پر یقین کرنا آسان نہیں ہے۔ سابق رکن سندھ اسمبلی فریحہ رزاق صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی کی دوسری بیوی تھیں‘ پولیس دونوں کی پراسرار ہلاکت کے بعد میاں بیوی کے تعلقات کے بارے میں بھی تحقیقات کررہی ہے۔ دونوںکی لاشیں ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ کی بالائی منزل پر جس کمرے سے ملیں وہاں کسی قسم کی مزاحمت کے آثار نہیں پائے گئے، دونوں میاں بیوی کے سروں پر ایک ایک گولی لگی تھی‘ فریحہ رزاق کی لاش بیڈ پر پڑی ہوئی تھی جبکہ میر ہزار خان بجارانی کرسی پر مردہ پائے گئے جس کے قریب ہی پستول بھی پڑا ہوا تھا جسے پولس نے قبضے میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کوگولیاں کتنے فاصلے سے لگیں اس کا پتہ پوسٹمارٹم سے چل سکے گا جبکہ قبضے میں لئے گئے پستول کا فارنزک ٹیسٹ کرایا جائے گا۔ پولیس نے ہزار خان بجارانی کے 4ملازمین سمیت 5افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار افراد میں چار گھریلو ملازمین جن میں ہزار خان بجارانی کا باورچی‘ ڈرائیور اس کی بیوی شامل ہیں ڈرائیور سرکاری ملازم ہے اس کی اہلیہ اسی بنگلے میں رہتی تھی۔ ہزار خان بجارانی کی سکیورٹی کیلئے تعینات 2 پولیس اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے کہا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی کی کنپٹی پر گولی لگی ہوئی ہے۔ جائے وقوعہ سے 30بور کی پستول اور 3گولیاں ملی ہیں۔ صرف میر ہزارخان بجارانی کی لاش کا معائنہ کیا ہے۔ بجارانی کی اہلیہ فریحہ کی لاش کا معائنہ لیڈی ڈاکٹر کریں گی۔ میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں جناح ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں‘ 4راؤنڈ فائر ہوئے جو مس ہوگئے۔ آصف علی زرداری اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی وزیر سندھ میر ہزارخان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میر ہزارخان بجارانی پرانے ساتھی تھے‘ اس واقعہ کے بارے جان کر بہت صدمہ ہوا۔ دریں اثناءپی پی پی کے سینٹ کے ٹکٹوں کے فیصلے کیلئے کراچی میں طلب کیا جانے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی ہلاکت کا واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات ناصرشاہ نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان کے سر پر گولیاں 
لگی ہیں اور مزید تفصیلات پوسٹ مارٹم اور تفتیش کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔ 
سندھ کے وزیر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ کی لاشیں برآمد،کنپٹی، ماتھے پر گولیاں لگیں،4 ملازمین سمیت 5 گرفتار
صوبائی وزیر کی ہلاکت کی اطلاع ملنے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سیدمرادعلی
 شاہ، صوبائی وزیر داخلہ سہیل انورسیال میر ہزار خان بجارانی کی رہائش گاہ پہنچے تاہم دورے کے بعد وہ میڈیا سے کوئی بات کیے بغیر روانہ ہو گئے۔ تاہم صوبائی وزیر منظور وسان نے میڈیا سے بات کی اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ کہیں میر ہزار خان نے خودکشی تو نہیں کی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ انتہائی شفیق اور پیار کرنے والا شخص تھا ان کی زبان سے کبھی ایسا منفی لفظ نہیں سنا گیا جو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہو۔ انہوں نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ میر ہزار خان ذہنی دباو¿ میں تھے۔ منظور وسان کے مطابق گزشتہ روز ہی وہ کابینہ کے اجلاس میں ساتھ تھے اور ایسا کچھ نہیں تھا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے جمعرات کو طلب کردہ اپنی پریس کانفرنس سوگ میں ملتوی کردی ۔ پارٹی قیادت کی ہدایت پر رحمان ملک نے اہم قومی سلامتی کے معاملا ت پر پریس کانفرنس کرنا تھی۔ انہوں نے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میر ہزار بجارانی اور سیف اللہ بنگش کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ آئی جی سندھ نے میڈیا کو بتایا کہ سب سے پہلے وقوعہ کا علم فریحہ بی بی کے بچوں کو ہوا۔ داخلی دروازہ بند تھا، بچے عقبی دروازے سے گھر میں داخل ہوئے، گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈی وی آئی تحویل میں لے لئے ہیں۔


loading...